13 اپریل 2013 - 19:30
جناب زہرا(س) کو دفناتے وقت مولائے کائنات کا نالہ و شیون

اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حکام وقت آپ کی قبر سے مطلع ہو جائیں گے تو ہمیشہ آپ کی قبر کے پاس بیٹھا رہتا اور ایسا گریہ و نالہ کرتا جیسا بوڑھی ماں اپنے جوان بیٹے کے غم میں کرتی ہے میں اس عظیم مصیبت پر اپنا سر پیٹتا۔

سیّدۃ النسا ء حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دفن کرتے وقت رسول خدا (ص) کو مخاطب کرکے مولائے کائنات نے درد دل کرنا شروع کیا اور رسول اسلام (ص) کے بعد اہلبیت (ع) سے زمانے کی بے رخی کی غیر مستقیم طور پر منظر کشی کی، اس حال میں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب جاری تھا فرمایا :یارسول اللہ آپ کو میری جانب سے اور آپ کے پڑوس میں اترنے والی اور آپ سے جلد ملحق ہونے والی آپ کی بیٹی کی طرف سے سلام ہو ۔یارسول اللہ آپ کی برگزیدہ(بیٹی کی رحلت) سے میرا صبر و شکیب جاتا رہا میری ہمت و توانائی نے ساتھ چھو ڑ دیا ۔لیکن آپ کی مفارقت کے حادثہ عظمیٰ اور آپ کی رحلت کے صدمہ جانکاہ پر صبر کرلینے کے بعد مجھے اس مصیبت سے بھی صبر و شکیبائی ہی سے کام لینا ہو گا۔ جب کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو قبر کی لحد میں اتارا اور اس عالم میں آپ کی روح نے پرواز کی جب آپ کا سر میری گردن اور سینے کے درمیان رکھا تھا ۔اب یہ امانت پلٹائی گئی گروی رکھی ہوئی چیز چھڑا لی گئی لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی ۔یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اس گھر کو منتخب کرے جس میں آپ رونق افروز ہیں ۔وہ وقت آگیا کہ آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کرلیا آپ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و وار دات دریافت کریں ۔یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں ۔حالانکہ آپ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں ۔آپ دونوں پر میرا اسلام جو کسی ملول و دل تنگ کی طرف سے ہوتا ہے اب اگر میں (اس جگہ سے )پلٹ جاؤں تو اس لئے نہیں کہ آپ سے میرا دل بھر گیا ہے اور اگر ٹھہرا رہوں تو اس لئے نہیں کہ میں اس وعدہ سے بدظن ہوں جو اللہ نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے۔(۱) افسوس! لیکن میں صبر سے کام لوں گا صبر بہتر اور خوبصورت ہے اور اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حکام وقت آپ (فاطمہ زہرا) کی قبر سے مطلع ہو جائیں گے تو ہمیشہ آپ کی قبر کے پاس بیٹھا رہتا اور ایسا گریہ و نالہ کرتا جیسا بوڑھی ماں اپنے جوان بیٹے کے غم میں کرتی ہے میں اس عظیم مصیبت پر اپنا سر پیٹتا۔ (اے رسول خدا ) خدا دیکھ رہا ہے کہ آپ کی بیٹی کو تنہائی میں اور مخفی طور پر دفن کیا ہے اور ان کا حق کھلے عام مارا گیا ہے انہیں وراثت سے محروم کیا گیا ہے جبکہ آپ کو گئے ہوئے کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھی آپ کے تذکرے بند نہیں ہوئے ہیں۔ اے رسول خدا میری طرف سے تسلیت قبول کیجئے۔ اللہ کا درود و سلام اور اس کی رحمتیں ہوں آپ دونوں پر۔(۲) حوالہ حات(۱): نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۱(۲): اصول کافی، ج۱ ص۴۵۹ باب مولد الزہرا (س)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲